25 مئی 2017 - 11:46
علی شمخانی: دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے انتہا پسندانہ افکار میں تبدیلی کی ضرورت ہے

ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے گمراہ کن اور انتہا پسندانہ افکار و نظریات میں اصلاح و تبدیلی کی ضرورت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری  نے روس میں سلامتی کے بارے میں آٹھویں بین الاقوامی اجلاس میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دہشت گردی، پوری عالمی برادری کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، کہا کہ دہشت گردانہ افکار و نظریات کی پیداوار، ان کی ترویج و تشہیر کے مراکز کو نابود کئے جانے کے علاوہ ایسے حالات سازگار بنائے جانے کی ضرورت ہے کہ جن میں متاثرہ فرقوں و قبائل اس طرح سےمحفوظ ہو جائیں کہ دہشت گرد ان میں اثر و رسوخ پیدا نہ کرسکیں -
علی شمخانی نے کہا کہ ماسکو اجلاس میں شریک ممالک اپنے یہاں دہشت گردوں کے خلاف مہم کا تلخ یا شیریں تجربہ رکھتے ہیں کہ جنھیں وہ ایک دوسرے کو منتقل بھی کرسکتے ہیں اس لئے کہ جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے مقابلے میں منطقی اور صحیح و مشترکہ سوچ کے ساتھ متحدہ اقدام عمل میں لایا جائے۔ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو کہاں سے جدید قسم کا فوجی اسلحہ میسر ہو رہا ہے کہ جن کی بدولت وہ اجتماعی قتل عام بھی کر رہے ہیں؟ کہا کہ بعض ممالک دوہرے معیار کی پالیسیاں اختیار کرکے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ خفیہ یا اعلانیہ تعلقات بنائے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کوئی بھی دہشت گرد گروہ بیرونی حمایت کے بغیر طویل مدّت تک باقی نہیں رہ سکتا۔ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ ماسکو اجلاس میں شریک ممالک افغانستان، عراق، لیبیا، اور حال ہی میں یمن اور شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے نتائج کے بارے میں فیصلہ کریں۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ، اگر علاقے کے بحرانوں کے بارے میں مضبوطی کے ساتھ سامنے آتا اور غیر قانونی فوجی مداخلتوں کے خلاف بروقت صحیح اور ٹھوس کارروائی کرتا تو موجودہ دنیا میں اتنی زیادہ بدامنی نہ پھیلتی۔قابل ذکر ہے کہ روس کے دارالحکومت ماسکو کے شمال مغرب میں واقع شہر زاویدووا میں بدھ کے روز اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے اعلی سیکورٹی حکام کی شرکت سے عالمی سلامتی کے بارے میں اہم بین الاقوامی اجلاس تشکیل پایا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169